نبی پاکﷺ اور یہودیوں کے علامہ کا آپس میں معاملہ

اے محمد ﷺ آپ میرا قرضہ ادا نہیں کرتے ۔ خدا کی قسم ! میں تم سب اولاد عبدالمطلب کو خوب جانتا ہوں کہ بڑے نادہندہ ہو۔

تاریخ گواہ ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ اخلاقِ محمدی ﷺ سے پھیلا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، لیکن آپ ﷺ کا "حلم" (یعنی غصے کو پی جانا اور جہالت کے بدلے میں نرمی کرنا) وہ صفت تھی جس نے بڑے بڑے دشمنوں کو قدموں میں لا بٹھایا۔

آج ہم حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ (جو پہلے یہودی عالم تھے) کا وہ مشہور واقعہ بیان کریں گے جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کے صبر کا امتحان لیا اور ہمیشہ کے لیے آپ ﷺ کے غلام بن گئے۔


1. نبوت کی نشانیوں کی تلاش

حضرت زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ قبولِ اسلام سے پہلے یہودیوں کے بہت بڑے عالم (Rabbi) تھے۔ انہوں نے تورات میں نبی آخر الزماں ﷺ کی تمام نشانیاں پڑھ رکھی تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھتے ہی نبوت کی تمام علامات پہچان لی تھیں، سوائے دو نشانیوں کے جن کا تجربہ باقی تھا:

  1. آپ ﷺ کا حلم (بردباری) آپ ﷺ کے غصہ پر غالب ہوگا۔

  2. آپ ﷺ کے ساتھ کوئی جتنا جاہلانہ رویہ رکھے گا، آپ ﷺ کا تحمل اسی قدر بڑھتا جائے گا۔

زید بن سعنہ اسی موقع کی تلاش میں تھے کہ کب ان دو باتوں کا امتحان لیا جائے۔


2. ادھار کا معاملہ اور بدوی کی مدد

ایک دن نبی کریم ﷺ حجرے سے باہر تشریف لائے، ساتھ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ایک دیہاتی (بدوی) شخص پریشان حال آیا اور عرض کی:

"یا رسول اللہ ﷺ! میری قوم مسلمان ہو چکی ہے، میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ اسلام لانے پر ان پر رزق کی فراوانی ہوگی، لیکن اب وہاں قحط پڑ گیا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ تنگدستی سے گھبرا کر اسلام نہ چھوڑ دیں۔ اگر آپ کچھ مدد فرمائیں تو بہت کرم ہوگا۔"

آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کی طرف دیکھا تو پتہ چلا کہ اس وقت بیت المال میں کچھ موجود نہیں ہے۔

زید بن سعنہ کا موقع:

زید یہ سب دیکھ رہے تھے، وہ آگے بڑھے اور کہا: "اے محمد (ﷺ)! اگر آپ فلاں باغ کی کھجوریں ایک مقررہ وقت پر مجھے دینے کا وعدہ کریں تو میں پیشگی قیمت دے سکتا ہوں۔"

نبی کریم ﷺ نے باغ متعین کرنے سے منع فرمایا لیکن عام معاملہ طے پا گیا کہ مقررہ وقت پر اتنی کھجوریں دی جائیں گی۔ زید نے 80 مثقال سونا نبی کریم ﷺ کو دیا، جو آپ ﷺ نے فوراً اس بدوی کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اپنی قوم کی مدد کر سکے۔


3. تقاضے کا سخت انداز اور امتحان

ابھی کھجوریں دینے کی مدت پوری ہونے میں دو تین دن باقی تھے کہ نبی کریم ﷺ ایک جنازے سے فارغ ہو کر دیوار کے سائے میں تشریف فرما تھے۔ پاس ہی حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ بھی موجود تھے۔

زید بن سعنہ آئے اور اچانک آپ ﷺ کے کرتے اور چادر کو سختی سے پکڑ لیا (گریبان کی طرف ہاتھ ڈالا) اور انتہائی غصے اور ترش روئی سے کہا:

"اے محمد (ﷺ)! تم میرا حق ادا کیوں نہیں کرتے؟ خدا کی قسم! میں تم سب اولادِ عبدالمطلب کو خوب جانتا ہوں کہ تم لوگ مال دبا لیتے ہو اور ٹال مٹول کرتے ہو۔"

یہ ایک انتہائی گستاخانہ رویہ تھا، وہ بھی نبی وقت کے ساتھ اور صحابہ کرام کے مجمع میں۔


4. حضرت عمرؓ کا غصہ اور نبی ﷺ کی مسکراہٹ (کلائمیکس)

یہ منظر دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا جلال دیکھنے والا تھا۔ انہوں نے زید کو گھور کر دیکھا اور فرمایا:

"اے خدا کے دشمن! تو اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی بات کرتا ہے؟ خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر مجھے آپ ﷺ کا ادب مانع نہ ہوتا تو میں ابھی تیری گردن اڑا دیتا۔"

یہاں اخلاقِ نبوی ﷺ کا ظہور ہوتا ہے۔ زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا:

"نبی کریم ﷺ انتہائی پرسکون تھے اور مسکرا رہے تھے۔"

آپ ﷺ نے حضرت عمرؓ کی طرف دیکھا اور تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:

"اے عمر! میں اور یہ تمہاری طرف سے کسی اور سلوک کے زیادہ محتاج تھے۔ تمہیں چاہیے تھا کہ مجھے حق ادا کرنے میں 'حسنِ ادائیگی' کا کہتے اور اسے تقاضا کرنے میں 'نرمی' کا مشورہ دیتے۔"


5. برائی کا بدلہ بھلائی سے

نبی کریم ﷺ نے حضرت عمرؓ کو حکم دیا:

  1. جاؤ، اس کا حق (قرض) ادا کر دو۔

  2. اور چونکہ تم نے اسے ڈانٹا ہے اور خوفزدہ کیا ہے، اس کے بدلے میں 20 صاع (تقریباً دو من) کھجوریں زیادہ دینا۔

حضرت عمرؓ انہیں لے گئے، قرض ادا کیا اور 20 صاع زیادہ کھجوریں دیں۔ زید نے پوچھا: "یہ زیادہ کیوں؟"

حضرت عمرؓ نے فرمایا: "یہ اللہ کے رسول ﷺ کا حکم ہے کیونکہ میں نے تمہیں دھمکایا تھا۔"


6. قبولِ اسلام کا ایمان افروز منظر

یہ حسنِ سلوک دیکھ کر زید بن سعنہ پکار اٹھے: "اے عمر! کیا تم مجھے نہیں پہچانتے؟ میں یہودیوں کا بڑا عالم زید بن سعنہ ہوں۔"

حضرت عمرؓ حیران ہوئے کہ اتنا بڑا عالم ہو کر ایسا جاہلانہ رویہ کیوں اپنایا؟

زید نے جواب دیا:

"میں صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا محمد (ﷺ) میں نبوت کی وہ دو نشانیاں موجود ہیں یا نہیں؟

  1. کہ ان کا حلم (نرمی) ان کے غصے پر غالب رہتا ہے۔

  2. اور ان کے ساتھ جتنی جہالت برتی جائے، ان کا تحمل اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ دونوں نشانیاں پرکھ لی ہیں۔ اے عمر! گواہ رہنا، میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاتا ہوں اور میرا آدھا مال امتِ محمدیہ ﷺ پر صدقہ ہے۔"

اس کے بعد وہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے، کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گئے۔ بعد میں وہ کئی غزوات میں شریک رہے اور غزوہ تبوک میں شہید ہوئے۔


7. اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

یہ واقعہ صرف تاریخ نہیں بلکہ ہماری تربیت کا نصاب ہے۔

  • غصے پر قابو: طاقت کے باوجود معاف کر دینا ہی اصل بہادری ہے۔

  • قرض کی ادائیگی: اگرچہ قرض کی مدت باقی تھی، لیکن آپ ﷺ نے اسے ادا کروایا اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا۔

  • دین کی دعوت: لوگوں کو زبان سے زیادہ اپنے کردار سے متاثر کریں۔ سختی دلوں کو توڑتی ہے اور نرمی دلوں کو جوڑتی ہے۔

  • غیر مسلموں سے رویہ: اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ بدتمیز شخص کے ساتھ بھی انصاف اور احسان کا معاملہ کیا جائے۔


خلاصہ

نبی کریم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ وہ بہترین نمونہ ہے جس کی پیروی کر کے ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ آج ہمیں اپنے گھروں، بازاروں اور دفاتر میں اسی "حلم اور برداشت" کی ضرورت ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نبی کریم ﷺ کے اخلاق کا کچھ حصہ نصیب فرمائے اور ہمیں دین کا صحیح فہم عطا کرے۔ آمین۔

مزید اسلامی واقعات اور مسنون دعاؤں کے لیے ہماری ویب سائٹ masnoonduayain.com وزٹ کریں۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال 1: زید بن سعنہ کون تھے؟

جواب: زید بن سعنہ مدینہ کے یہودیوں کے بہت بڑے عالم (Rabbi) تھے جو تورات کے ماہر تھے اور نبی کریم ﷺ کے اخلاق کو آزمانے کے بعد مسلمان ہو گئے۔

سوال 2: حلم (Hilm) کا کیا مطلب ہے؟

جواب: حلم کا مطلب ہے بردباری، یعنی اشتعال اور غصے کے اسباب موجود ہونے کے باوجود اپنے آپ پر قابو رکھنا اور نرمی سے پیش آنا۔

سوال 3: قرض کی ادائیگی کے وقت نبی ﷺ نے کیا حکم دیا؟

جواب: آپ ﷺ نے حضرت عمرؓ کو حکم دیا کہ اصل قرض ادا کرو اور چونکہ تم نے اسے ڈانٹا ہے، اس کے ازالے کے طور پر 20 صاع کھجوریں مزید دو۔


About the author

Syed Anees ur Rahman
I’m Syed Anees Ur Rahman, a passionate writer sharing insights on education, self-improvement, culture, and spirituality. Through this blog, I aim to inspire and provide valuable content to help you grow and reflect. Your feedback is always apprecia…

إرسال تعليق