قرض سے نجات کی دعا اور وظیفہ: بوجھ سے خلاصی کے مستند نبوی طریقے

قرض سے نجات کی دعا اور قرض ختم ہونے کی دعا اور قرض کی ادائیگی اور قرض کی بوجھ سے خلاصی کا وظیفہ یہاں سیکھیں

قرض ختم کرنے کی دعا — قرض سے جلد نجات کی اسلامی دعا

زندگی کے نشیب و فراز میں انسان کبھی نہ کبھی مالی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات ضرورت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ انسان کو کسی سے قرض لینا پڑتا ہے، لیکن اصل مشکل تب سے شروع ہوتی ہے جب یہ قرض ایک پہاڑ کی طرح بن جائے اور قرض کی واپسی کی کوئی صورت بھی نظر نہ آئے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف ہمیں قرض کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے بلکہ قرض کے بوجھ سے خلاصی کے لیے بہترین روحانی اور عملی حل بھی فراہم کرتا ہے۔

اس تفصیلی مضمون میں ہم قرض سے نجات کی دعا، قرض اتارنے کا طریقہ، اور وہ تمام قرض ختم ہونے کی مخصوص دعائیں ذکر کریں گے جو حضور اکرم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو سکھائی تھیں۔ چاہے آپ قرض اتارنے کا وظیفہ تلاش کر رہے ہوں یا غیب سے مدد کی دعا، یہ تحریر آپ کے لیے ایک مکمل رہنمائی یعنی گائیڈ اور فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔


1. قرض کی اہمیت اور اسلام میں اس کا حکم

اسلام میں قرض کی واپسی کو انتہائی اہمیت دی گئی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے قرض کی ادائیگی میں سستی کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ یہاں تک کہ شہید کے تمام کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں مگر "قرض" معاف نہیں ہوتا۔ لہذا قرض کی ادائیگی لازم ہے۔ 

🔸 قرض کی ادائیگی کا حکم

قرآنِ پاک کی سب سے لمبی آیت (آیتِ مدائینہ) قرض کے لین دین کے معاملات سے بارے میں ہے (سورۃ البقرہ: 282)۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مالی معاملات کو کتنا واضح اور شفاف رکھا ہے۔ اگر آپ نیت صاف رکھیں اور قرض کی ادائیگی کے لیے کوشش کریں تو انشاء اللہ! اللہ پاک غیب سے اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔


2. قرض سے نجات کی دعا: اللہم اکفنی بحلالک

حضور اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایک ایسی دعا سکھائی جس کی طاقت سے پہاڑ جتنا قرض بھی اتار سکتے ہے۔ یہ قرض اتارنے کی دعا ہر اس شخص کے لیے ہے جو مالی طور پر بالکل لاچار اور بے بس ہو چکا ہو۔

 دعا:

"اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ"

 ترجمہ:

(اے اللہ! مجھے اپنے حلال کے ساتھ اپنے حرام سے بے نیاز کر دے اور اپنے فضل کے ساتھ مجھے اپنے علاوہ ہر کسی سے غنی کر دے)۔

🔸 فضیلت اور حدیث کا حوالہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مکاتب (غلام) آیا اور اپنی ادائیگی کے لیے مدد مانگی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھاؤں جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے سکھائے تھے؟ اگر تم پر صیر (ایک پہاڑ کا نام) جتنا قرض بھی ہوا تو اللہ پاک تمہاری طرف سے اسے ادا کر دے گا"۔ (جامع ترمذی، حدیث نمبر 3563)۔ یہ دعائے قرض سب سے زیادہ مستند اور آزمودہ ہے۔


3. حضرت ابو امامہؓ کا واقعہ اور قرض سے پناہ کی دعا

جب فکر اور غم انسان کو گھیر لیں، تو وہ قرض کے بوجھ سے خلاصی کے لیے تڑپتا پھرتا ہے۔ سنن ابی داؤد میں امید دلانے والا  ایک خوبصورت واقعہ درج ہے۔

🔸 فکر اور غم دور کرنے کا نبوی نسخہ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ مسجد میں اداس بیٹھے تھے۔ حضور ﷺ نے پوچھا: "ابو امامہ! کیا بات ہے؟" انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! غموں اور قرضوں نے گھیر رکھا ہے"۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں وہ کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم وہ کلمات پڑھو گے تو اللہ تمہاری فکر دور کر دے گا اور تمہارا قرض ادا کر دے گا؟"

دعا یہ ہے:

"اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ"

 ترجمہ:

(اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں فکر اور غم سے، عاجزی اور سستی سے، بزدلی اور کنجوسی سے، اور قرض کے غلبے اور لوگوں کے تسلط سے)۔

🔸 نتیجہ اور اثر

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ:

"میں نے اس دعا کو پڑھنا شروع کیا تو میری فکر جاتی رہی اور اللہ تعالٰی نے میرے قرض کو بھی ادا فرما دیا"۔ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 1555

یہ قرض ادا ہونے کی دعاء ہر صبح اور شام پڑھنے کا معمول بنائیں۔


4. حضور ﷺ کی حضرت معاذؓ کو سکھائی گئی مخصوص دعا

ایک دفعہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نمازِ جمعہ میں نظر نہ آئے تو آپ ﷺ نے سبب پوچھا۔ انہوں نے عرض کیا کہ ایک یہودی کا قرض تھا جس کی وجہ سے میں نکل نہ سکا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اے معاذ! کیا میں تمہیں وہ دعا نہ سکھاؤں کہ اگر تم پر احد پہاڑ جتنا سونا بھی قرض ہو تو اللہ اسے اتار دے گا؟"

دعا کے کلمات:

"اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَحْمَانَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا، تُعْطِيهِمَا مَنْ تَشَاءُ وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ"

ترجمہ:

"اے اللہ! تمام ملک (سلطنت) کے مالک، تو جسے چاہے حکومت عطا کرے اور جس سے چاہے حکومت چھین لے، اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے، تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اے دنیا اور آخرت کے رحمن و رحیم! تو ان دونوں میں سے جسے چاہے عطا کرے اور جسے چاہے محروم کر دے، مجھ پر ایسی رحمت نازل فرما جس کے بعد مجھے تیرے سوا کسی اور کی رحمت کی حاجت نہ رہے"۔ 

یہ حضور کی حضرت معاذ کو قرض کی دعا انتہائی طاقتور ہے اور غیب سے مدد کی دعا کے طور پر جانی اور پڑھی جاتی ہے


5. قرض کے بوجھ سے خلاصی کے لیے وظیفہ اور درود شریف

کچھ لوگ مخصوص قرض کے بوجھ سے خلاصی کے لیے وظیفہ تلاش کرتے ہیں۔  علماء کرام نے قرض کے لیے درود شریف کو ایک خزانے کی چابی قرار دیا ہے۔

  • درود شریف کی کثرت: درود ابراہیمی کو روزانہ ایک مخصوص تعداد ( 313 بار جو بزرگانِ دین کے مجربات میں سے ہے) پڑھنا حاجتوں کی تکمیل اور قرض کی ادائیگی کے لیے دعا کی قبولیت کا بہترین ذریعہ ہے۔

  • نمازِ حاجت: دو رکعت نماز حاجت یعنی صلوٰۃ الحاجت پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے قرض کی واپسی اور خلاصی کی دعا کریں۔

  • اسمِ اعظم کا واسطہ: یا حی یا قیوم کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مانگنا قرض سے نجات کے لیے بہت مفید اور مؤثر ہے۔


6. قرض اتارنے کا عملی طریقہ: روحانی اور مادی اقدامات

صرف دعا ہی کافی نہیں، بلکہ قرض اتارنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ دعا کے ساتھ عملی تدابیر بھی اختیار کریں۔

نمبراقدامتفصیل
1سچی توبہگناہ رزق کو روک دیتے ہیں۔ لہذا استغفار کی کثرت کیا کریں۔
2نیت کی صفائیحدیث شریف کے مطابق جو شخص قرض ادا کرنے کی نیت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا مددگار ہوتا ہے۔
3اخراجات میں کمیفضول خرچی چھوڑ کر سادگی اختیار کریں تاکہ بچت سے قرضہ ادا کرنے کا وظیفہ عملی صورت اختیار کرے۔ اور قرض ختم ہو جائے۔ 
4مسلسل دعاقرض کی ادائیگی کی دعا کو اپنی زبان کا مشغلہ بنا لیں۔

7. قرض سے پناہ اور استعاذہ

نبی اکرم ﷺ کثرت سے قرض سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! آپ قرض سے اتنی پناہ کیوں مانگتے ہیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا:

"جب انسان مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، اور وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے" (صحیح بخاری، حدیث نمبر 832

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرض اتارنے کی دعا نہ صرف مالی بلکہ اخلاقی وزبانی حفاظت کا بھی ذریعہ ہے۔


8. خلاصہ اور روحانی پیغام

قرض کے بوجھ سے خلاصی کے لیے سب سے پہلا قدم اللہ پاک کی ذات پر کامل یقین ہو۔ اللہم اكفنی بحلالك جیسے کلمات میں وہ تاثیر اور چابی ہے جو تالے کھول دیتی ہے۔ اگر آپ مقروض ہیں تو مایوس نہ ہوں، کیونکہ حضرت ابو امامہؓ اور حضرت معاذؓ جیسے جلیل القدر صحابہ بھی اس آزمائش سے گزرے اور حضور ﷺ کی دعاؤں کی برکت سے سرخرو ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی۔ ۔

اپنے معمول میں قرض کی ادائیگی کی دعا شامل کریں، درود شریف کی کثرت کریں، اور ہر نماز کے بعد قرض سے نجات کے لیے دعا مانگیں۔ اللہ تعالیٰ غیب سے آپ کی بھی انشاء اللہ مدد فرمائے گا۔


کلیدی Takeaways (اہم نکات)

  • سب سے مجرب دعا: "اللهم اكفني بحلالك عن حرامك"۔

  • بہترین وقت: تہجد، فرض نمازوں کے بعد، اور صبح و شام کے اذکار۔

  • حفاظتی ڈھال: "اللهم انى اعوذ بك من الهم والحزن" کا ورد۔

  • نیت کی اہمیت: قرض اتارنے کی پکی نیت کرنا ایسا ہے گویاکہ اللہ تعالیٰ کی مدد کو دعوت دینا ہے۔

  • مزید رہنمائی: مستند دعاؤں کے لیے مسنون دعائیں سیکھیں وزٹ کریں۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال 1: کیا درود شریف پڑھنے سے قرض اترتا ہے؟

جواب: جی ہاں، قرض کے لیے درود شریف بہت مؤثر ہے کیونکہ درود شریف پڑھنے سے اللہ تعالیٰ بندے کی تمام غم و فکریں دور فرما دیتا ہے اور تمام حاجتیں پوری کرتا ہے۔

سوال 2: حضور ﷺ نے حضرت معاذؓ کو کون سی دعا سکھائی تھی؟

جواب: آپ ﷺ نے انہیں "اللهم مالك الملك" (سورۃ آل عمران کی آیات) پڑھنے اور اس کے بعد مخصوص کلمات مانگنے کی تلقین کی تھی جسے حضور کی حضرت معاذ کو قرض کی دعا کہا جاتا ہے۔

اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَحْمَانَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا، تُعْطِيهِمَا مَنْ تَشَاءُ وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ 

ترجمہ:

"اے اللہ! تمام ملک (سلطنت) کے مالک، تو جسے چاہے حکومت عطا کرے اور جس سے چاہے حکومت چھین لے، اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے، تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اے دنیا اور آخرت کے رحمن و رحیم! تو ان دونوں میں سے جسے چاہے عطا کرے اور جسے چاہے محروم کر دے، مجھ پر ایسی رحمت نازل فرما جس کے بعد مجھے تیرے سوا کسی اور کی رحمت کی حاجت نہ رہے"۔ 

سوال 3: غیب سے مدد کے لیے کون سا وظیفہ بہتر ہے؟

جواب: قرض سے نجات کا وظیفہ کے طور پر "یا حی یا قیوم برحمتک استغیث" اور کثرتِ استغفار سب سے بہترین غیب سے مدد کی دعا ہیں۔

سوال 4: کیا قرض کی تنگی گناہوں کی وجہ سے ہوتی ہے؟

جواب: کبھی کبھی گناہ رزق میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس لیے قرض اتارنے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان سچی توبہ کرے اور استغفار کو لازم پکڑ لے۔

سوال 5: کیا صبح و شام کی دعاؤں میں قرض کی کوئی دعا ہے؟

جواب: جی ہاں، اللهم انى اعوذ بك من الهم والحزن صبح و شام کے مسنون اذکار کا حصہ ہے جو قرض سے پناہ کے لیے بہترین ہے۔


؟

About the author

Syed Anees ur Rahman
I’m Syed Anees Ur Rahman, a passionate writer sharing insights on education, self-improvement, culture, and spirituality. Through this blog, I aim to inspire and provide valuable content to help you grow and reflect. Your feedback is always apprecia…

إرسال تعليق